ابنا: پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیربھٹو کی چھٹی برسی آج منائی جارہی ہے۔ پاکستان بھر میں محترمہ کے چاہنے والے فاتحہ خوانی کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ گڑھی خدا بخش میں قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بینظیر بھٹو کی برسی کی مرکزی تقریب کا آغاز جمعے کی صبح 9 بجے گڑھی خدابخش میں ان کے مزار پر قرآن خوانی سے ہواجس کے بعد جلسہ عام منعقد ہوا جس سے پارٹی قیادت اور سینئر رہنماوں نے خطاب کیا۔ اس موضوع پر میں نے بات کی تجزیہ نگارعرفان علی سےاور ان سے پوچھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مخصوص ذہنیت نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا، ہماری جنگ اقتدار کی نہیں نظریات کی ہے، ہم صحیح سمت پر چل رہے ہیں اور اس نظریات کی جنگ میں فتح ہمارا مقدر بنے گی، زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور ملک و قوم کی خاطر جبر کی زندگی گذاری۔ ان کا کہنا تھا کہ بہترین انتقام جمہوریت کی بالادستی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے نظیر بھٹو کی آمد شاندار اور باوقار تھی اور پھر 27 دسمبر 2007 کو باعزت رخصتی بھی بہت کم افراد کو نصیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ بہت شان سے اسٹیج پر وارد ہوتے ہیں لیکن اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ پاتے لیکن بے نظیر بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ شان و شوکت کے ساتھ سیاسی اکھاڑے میں داخل ہوئیں اور اسی طمطراق، شان و وقار، طمانیت اور فخر کے ساتھ سر بلند کئے چلی گئیں۔27دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کو ایک ایسے وقت قتل کیا گیا جب پاکستان انتخابات کے عمل سے گزر رہا تھا۔ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان آئیں تو کراچی میں ان کا شاندار استقبال ہوا لیکن اس جلوس کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی نذرکر دیا گیا، درجنوں سیاسی کارکن ہلاک ہو گئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے بے نظیر بھٹو نے حوصلہ نہیں ہارا اور اگلے دن ہی زخمیوں کی عیادت کے لئے چلی گئیں۔ انتخابات میں مناسب سیکورٹی نہ ملنے کے باوجود الیکشن مہم میں بہادری کے ساتھ حصہ لینا شروع کر دیا لیکن بالآخر ملک و قوم کے دشمنوں نے بھرپور منصوبہ بندی اور ماہر نشانہ بازوں کی خدمات حاصل کر کے بے نظیر بھٹو کو عوام سے دور کر دیا۔ 27دسمبر 2007 کی اس سہ پہر ایئر پورٹ سے ذرا آگے میاں نواز شریف کے قافلے پربھی حملہ ہوا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ اتفاق ہی کی بات تھی کہ اس دن دونوں لیڈر راولپنڈی میں تھے۔ محترمہ کو لیاقت باغ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا اور میاں صاحب کو ایک انتخابی ریلی کی قیادت کرنا تھی جسے حنیف عباسی کے حلقے سے گزر کر جاوید ہاشمی کے حلقے کا گشت کرنا تھا جو شیخ رشید احمد سے پنجہ آزمائی کررہے تھے۔ چھ افراد کی ہلاکت کے باوجود میاں صاحب کا کارواں چلتا رہا۔ اسی دوران محترمہ نے لیاقت باغ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا۔ وہ جلسے سے نکل رہی تھیں کہ گروہ قاتلاں کے نرغے میں آگئیں۔البتہ اصل بات یہ ہے کہ6 سال گذر جانے کے باوجود بے نظیر کے قاتل نہیں پکڑے گئے، اگر محترمہ کے قتل کے بعد مسلم لیگ (ن) یا کسی اور جماعت کی حکومت قائم ہوجاتی تو بھی کوئی جواز تلاش کیا جاسکتا تھا لیکن بے نظیر کے قتل کے بعد خود ان کی پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی۔ خود ان کا شوہر نہ صرف منصب صدارت پہ فائز ہوا بلکہ اختیارات کلّی کا مالک ہوگیا۔ پی پی پی کی اس انتخابی کامیابی میں بھی بے نظیر کا لہو دمک رہا تھا۔ پی پی پی کے جیالوں ہی کو نہیں پاکستان بھر کے عوام کو یقین تھا کہ اب یہ قاتل قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے، چاہے وہ کتنی ہی محفوظ پناہ گاہوں میں چھپے ہوں لیکن جو کچھ ہوا وہ بے حسی اور لاتعلقی کی ایک افسوسناک کہانی کے سوا کچھ نہ تھا۔ جس مشرف کو محترمہ اپنا قاتل نامزد کرگئیں، اسے گارڈ آف آنر دے کر رخصت کردیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کا لہو کبھی اقوام متحدہ، کبھی اسکاٹ لینڈ یارڈ اور کبھی مقامی ساہوکاروں کے ہاتھ بکتا رہا۔ جم کر تحقیق و تفتیش کرنے اور تمام تر تحفظات سے بے نیاز ہوکر قاتلوں تک پہنچنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی۔ آصف علی زرداری پانچ سال پورے کرنے کا تمغہ اعزاز سینے پہ سجائے رخصت ہوگئے۔بھٹو کی بیٹی کو آسودہ خاک ہوئے چھ برس ہوگئے۔ آج گڑھی خدا بخش میں ایک اجتماع منعقد ہوا، لوگوں نے جئے بھٹو کے نعرے لگائےاور شاید بے نظیر کے قاتل بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں۔ محترمہ کی روح بھی عقیدت و محبت کے ان مظاہر کو دیکھ رہی ہوگی۔ اسے یقیناً اس بات کا دکھ ہوگا کہ اس کے قاتل پکڑے نہیں گئے ۔ گڑھی خدا بخش کے مجاوروں کو سوچنا ہوگا کہ کیا بھٹو اور بے نظیر کی سیاسی میراث کے تحفظ کے لئے بے ذوق تماشوں، بے روح تقریروں اور کھوکھلے نعروں کی حکمت عملی کافی ہے؟ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان میں جمہوریت کی علامت تھیں۔ ان کی زندگی ملک کے عوام خصوصاً غریب کی فلاح و بہبود کیلئے گزری۔ جمہوریت کو بحال کرانے کیلئے انہوں نے جیل اور جلاوطنی برداشت کی۔ 1988ء میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزازحاصل کیا تو انہوں نے انتقام کی سیاست کو دفن کر کے مفاہمت کی سیاست کا آغاز کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے والوں اور جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دینے والوں کو معاف کر دیا اور اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح ان کی مفاہمتی پالیسی اپنے عروج کو پہنچ گئی، جب انہوں نے اپنے سب سے بڑے مخالف میاں نواز شریف کے ساتھ اتحاد کر لیا۔بے نظیر بھٹو اپنے دشمنوں کو معاف کر دیتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ ملک کی مضبوطی کے لئے، جمہوریت کے دوام کیلئے، عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اور معاشی استحکام کے لئے مفاہمتی پالیسی بہت ضروری ہے۔ 2008ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت بے نظیر بھٹو کے خون کی بدولت اور ’’مفاہمت پالیسی‘‘ کی وجہ سے بنی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے خون پر بننے والی حکومت نے ملک و قوم اور پی پی پی کیلئے وہ کام انجام نہیں دیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔کیا بے نظیر بھٹو کو خراج تحسین صرف اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہم ان کے نام کی شمع روشن کریں۔ ان کے نام کی تختیاں لگائیں۔ اداروں کو بے نظیر بھٹو کے نام پر رکھ دیں ۔ یا پھر صحیح معنوں میں خراج تحسین پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں۔ جھوٹ اور کرپشن کی سیاست کو دفن کریں۔ عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کریں ۔ بے نظیر بھٹو نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، جلا وطنی قبول کی اور اقتدار سے محروم ہونا گوارا کر لیا لیکن اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کی ۔ مجھے آج بھی بے نظیر بھٹو کا مقولہ یاد آتا ہے، وہ کہتی تھیں کہ آپ کسی شخص کو جلاوطن تو کر سکتے ہیں لیکن اس کے نظریئے اور بنیادی تصور کو نہیں۔اسے جیل میں تو بند کر سکتے ہیں لیکن اس کے خیال یا تصور کو نہیں۔ اسی طرح آپ کسی شخص کو جان سے تو مار سکتے ہیں یا پھانسی پر چڑھا سکتے ہیں لیکن اس کی سوچ اور نظریے کو نہیں۔
.......
/169